تقریبا چودہ پندرہ سال پہلے کی بات ہے، میں شیئر بازار میں ٹریڈنگ بھی کرتا تھا اور انویسٹمنٹ بھی۔ ابتدا میں قسمت نے خوب ساتھ دیا۔ چھ مہینے کے اندر اتنے پیسے کمائے کہ ایک وقت تو لگا کہ جاب کرنے کا کیا ہی فائدہ ہے؟ ان دنوں میں ایک سرکاری دفتر میں ملازمت بھی کرتا تھا، لیکن شیئر مارکیٹ نے بہت جلد اپنے اصل رنگ دکھا دیے۔ ایک سال کے اندر اچھی خاصی کمائی کی تھی، لیکن پھر وہی ہوا جو اکثر چھوٹے سرمایہ کاروں کے ساتھ ہوتا ہے – ایک دن اچانک سب کچھ الٹ پلٹ سا گیا۔
مارکیٹ کریش کر گئی۔ وہ اسٹاکس جن میں میں نے اپنی بچت لگا رکھی تھی، دیکھتے ہی دیکھتے زمین پر آ گئے۔ جو شیئرز کافی دنوں میں اوپر جا رہے تھے، وہ چند گھنٹوں میں آدھی قیمت پر آ گئے۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ خبروں پر نظر ڈالی تو معلوم ہوا کہ بڑی کمپنیوں اور اداروں نے اپنے حصص بیچنے شروع کر دیے تھے۔ یہ وہی وقت ہوتا ہے جب مارکیٹ کے بڑے کھلاڑی، یعنی FIIs (Foreign Institutional Investors) اور DIIs (Domestic Institutional Investors)، اپنا کھیل کھیلتے ہیں۔ وہ مارکیٹ میں پیسہ لگا کر قیمتیں اوپر چڑھاتے ہیں اور جب چھوٹے انویسٹرز لالچ میں آ کر خریداری کرتے ہیں تو یہی بڑی مچھلیاں خاموشی سے اپنی کمائی سمیٹ کر نکل جاتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مارکیٹ کریش ہوجاتا ہے اور چھوٹے سرمایہ کاروں کی بربادی ہوتی ہے۔
یہ صرف ایک حادثہ نہیں ہوتا ہے، بلکہ یہ ایک منظم لوٹ ہوتی ہے۔ ایک ایسا کھیل جس میں قوانین تو نظر آتے ہیں، لیکن کھیلنے والے ہمیشہ بڑے ہوتے ہیں۔ اس کھیل کا طریقہ بڑا صاف ہے: پہلے افواہیں اور خبروں کے ذریعے مارکیٹ میں جوش پیدا کیا جاتا ہے۔ چھوٹے انویسٹرز کو یقین دلایا جاتا ہے کہ یہی وقت سرمایہ کاری کا ہے، یہی وہ موقع ہے جب آپ بھی امیر بن سکتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی یہ چھوٹے سرمایہ کار اپنی جمع پونجی لے کر بازار میں آتے ہیں، بڑی مچھلیاں اپنی سیلنگ شروع کر دیتی ہیں۔ نتیجہ؟ مارکیٹ زمین بوس، اور عام سرمایہ کار اپنے خوابوں کے ساتھ اپنی بچت بھی گنوا بیٹھتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں انڈین شیئر مارکیٹ میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ بھی اسی منظم لوٹ کی ایک تازہ مثال ہے۔ BSE Smallcap اور Nifty Midcap 100 جیسے انڈیکسز میں زبردست گراوٹ آئی ہے۔ جن اسٹاکس نے پچھلے سال آسمان کی بلندیوں کو چھوا تھا، وہ چند دنوں میں اپنی آدھی سے زیادہ قیمت کھو بیٹھے۔ اس گراوٹ میں سب سے زیادہ نقصان چھوٹے سرمایہ کاروں کو ہوا، جنہوں نے مارکیٹ کے عروج پر بھاری سرمایہ کاری کی تھی۔
لیکن یہ سب کیسے ہوتا ہے؟ جواب صاف ہے: معلومات کی غیر مساوی تقسیم (Information Asymmetry)۔ بڑی کمپنیوں اور اداروں کے پاس مارکیٹ کی گہری معلومات ہوتی ہیں۔ انہیں پہلے سے پتہ ہوتا ہے کہ کب بازار اوپر جائے گا اور کب گرنے والا ہے۔ جبکہ چھوٹے سرمایہ کار صرف خبروں اور افواہوں پر انحصار کرتے ہیں۔ جیسے ہی مارکیٹ میں گراوٹ آتی ہے، چھوٹے انویسٹرز گھبرا کر اپنے شیئرز بیچنے لگتے ہیں، اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب بڑی مچھلیاں سستے داموں پر بہترین شیئرز خرید لیتی ہیں۔
پینک سیلنگ (Panic Selling) اور مارکیٹ مینپولیشن (Market Manipulation) اس کھیل کے اہم ہتھیار ہیں۔ بڑے سرمایہ کار جب دیکھتے ہیں کہ مارکیٹ میں خوف بڑھ رہا ہے، تو وہ اسے مزید ہوا دیتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس، تجزیے اور ماہرین کی آراء کے ذریعے چھوٹے سرمایہ کاروں کو مزید خوفزدہ کیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ وہ گھبرا کر اپنے اثاثے کوڑیوں کے دام بیچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اور جب مارکیٹ اپنے نچلے درجے پر پہنچتی ہے، وہی بڑے ادارے واپس خریداری شروع کر دیتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ انڈین شیئر مارکیٹ میں بار بار یہ کہانی دہرائی جاتی ہے۔ ایک مخصوص وقت پر چھوٹے سرمایہ کاروں کو امید دکھائی جاتی ہے، اور پھر اچانک ان کی ساری امیدیں خاک میں مل جاتی ہیں۔ یہ ایک ایسا کھیل ہے جس میں قانون تو ہے، لیکن انصاف نہیں۔ اصول تو ہیں، لیکن تحفظ نہیں۔ اور ہمیشہ نقصان انہی لوگوں کا ہوتا ہے، جو اپنی محنت کی کمائی کو ایک بہتر مستقبل کی امید میں اس بازار میں لے کر آتے ہیں۔
تو اگر آپ بھی شیئر مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، تو یاد رکھیں، یہاں لالچ سب سے بڑا دشمن ہے اور صبر سب سے بڑی طاقت۔ ہر بڑھتے ہوئے شیئر کے پیچھے مت بھاگیں، ہر افواہ پر یقین نہ کریں، اور سب سے اہم بات یہ اپنے فیصلے خود کریں، کیونکہ اس مارکیٹ میں بڑی مچھلیاں ہمیشہ تاک میں رہتی ہیں، چھوٹی مچھلیوں کو نگلنے کے لیے۔ اور اس سے بھی اہم بات یہ کہ اس گندے بازار میں قدم ہی نہ رکھیں۔ اسے آپ کبھی نہ سمجھ سکیں گے۔
بٹ کوئن کا بھی کچھ ایسا ہی حال ہے۔ جب قیمتیں آسمان کو چھوتی ہیں تو میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر شور مچ جاتا ہے کہ یہی وقت ہے سرمایہ کاری کا، اور عام لوگ لالچ میں آ کر اپنی جمع پونجی لگا دیتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی بڑی سرمایہ کار کمپنیاں اور وہیلز (Whales) یعنی وہ لوگ جن کے پاس بڑی تعداد میں بٹ کوئن ہوتا ہے، اپنے اثاثے بیچنے لگتے ہیں، مارکیٹ کریش کر جاتی ہے۔ چھوٹے سرمایہ کار گھبرا کر نقصان میں اپنے کوائنز فروخت کر دیتے ہیں، اور وہی بڑے کھلاڑی سستی قیمت پر دوبارہ خریداری کرتے ہیں۔ یہی منظم لوٹ کا ایک اور نمونہ ہے، جہاں معلومات اور طاقت کی غیر مساوی تقسیم کا فائدہ ہمیشہ بڑی مچھلیاں ہی اٹھاتی ہیں۔
